ISLAMABAD: Member of the British Parliament and Shadow Deputy Leader of the House of Commons Afzal Khan called on the President of Azad Kashmir

  • by
ISLAMABAD: Member of the British Parliament and Shadow Deputy Leader of the House of Commons Afzal Khan called on the President of Azad Kashmir

اسلام آباد(اڑان نیوز ) برطانوی پارلیمنٹ کے رکن اور دارالعوام میں شیڈو نائب قائد ایوان افضل خان نے جموں وکشمیر ہاؤس اسلام آباد میں آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان سے ملاقات کی اور اُن سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال، بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے کی کوششوں سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے اُمور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کرنے کا مطالبہ کیا ان میں کشمیریوں کے پیدائشی حق خودارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کے دائمی حل کے لئے استصواب رائے کی تجویز دی گئی ہے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے عمل کو فی الفور روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے گزشتہ سال مقبوضہ کشمیر کی علامتی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور مقبوضہ ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے اور انہیں بھارتی یونین ٹریٹریز قرار دینے کے بعد ڈومیسائل کے نئے قوانین نافذ کیے اور اس کے بعد تسلسل کے ساتھ ایسے قانونی اقدامات کیے جس کے نتیجے میں غیر کشمیری ہندوستانیوں کے لئے کشمیر کی زمین کی خریداری کی راہ ہموار ہونے کے علاوہ کاروباری اور صنعتی مقاصد کے لئے متنازعہ علاقے میں زمین کی خریداری کی اجازت دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران بیس لاکھ لگ بھگ غیر ریاستی ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر کا ڈومیسائل جاری کیا گیا ہے اور اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ غیر ریاستی لوگوں کی متنازعہ ریاست میں آبادکاری کے عمل کو روکاجائے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اگلے دو تین سال میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمان اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگ اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں جہاں بے گناہ لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے، نوجوانوں کو آنکھوں کی بصارت سے محروم اور انہیں گرفتار کر کے جیلوں اور نظر بندی کیمپوں میں بند کیا جا رہا ہے اور کالے قوانین کے تحت بھارتی قابض فوج کو ہر قسم کے جرائم کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ حکومتی معاملات میں کشمیریوں کا کوئی عمل دخل نہیں کیونکہ اُن کی حقیقی سیاسی قیادت اس وقت جیلوں میں بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک غیر کشمیری لیفٹیننٹ گورنر اور چیف سیکرٹری دہلی سے ملنے والے احکامات پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔ صدر سردار مسعود خان نے برطانوی پارلیمنٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کی طرف سے کشمیر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے اور بھارتی اقدامات کے بارے میں ایک جامع رپورٹ جاری کرنے پر گروپ کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم خاص طور پر لیبر پارٹی کے اراکین کے شکر گزار ہیں جنہو ں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لانے میں ہماری مدد کی ہے۔ تاہم صدر ریاست نے کہا کہ برطانوی حکومت اور برطانوی وزارت خارجہ نے کشمیر کی سنگین صورتحال کے باوجود بے ضرر بیانات سے آگے بڑھ کر کچھ نہیں کیا اور اس مسئلہ کو پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاملہ قرار دے کر اس کی سنگینی سے نظریں چرانے کی ہمیشہ کوشش کی۔ انہوں نے برطانوی اراکین پارلیمنٹ، برطانیہ میں کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ برطانوی حکومت، وزارت خارجہ کو مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں اُٹھانے پر مجبور کریں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے برطانوی پارلیمنٹ کے رکن افضل خان نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی اور ہمارا یہ موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کے لئے برطانیہ کی ایک تاریخی ذمہ داری ہے۔ مسئلہ کشمیر کو موثر انداز میں اُجاگر کرنے میں برطانیہ میں مقیم کشمیریوں اور پاکستانیوں کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے افضل خان نے کہا کہ برطانیہ کی سیاسی جماعتیں اور عوام اس سلسلے میں اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یورپین پارلیمنٹ سے علیحدگی کے باوجود برطانیہ سے تعلق رکھنے والے یورپین پارلیمنٹ کے سابق اراکین اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے دوست پارلیمنٹرین کے ذریعے یورپی پارلیمان میں مسئلہ کشمیر کو اُٹھاتے رہیں گے۔

ISLAMABAD: Member of the British Parliament and Shadow Deputy Leader of the House of Commons Afzal Khan called on the President of Azad Kashmir Sardar Masood Khan at Jammu and Kashmir House Islamabad and briefed him on the situation in occupied Jammu and Kashmir and the Kashmir issue at the international level. Discussed in detail other issues of mutual interest, including efforts to do so. Expressing deep concern over the deteriorating situation in Occupied Kashmir, the two leaders called for the implementation of UN Security Council resolutions recognizing the birthright of Kashmiris and calling for a lasting solution to the Kashmir dispute. Opinion is suggested. Talking to media after the meeting, President Sardar Masood Khan demanded immediate halt to the process of change in the proportion of population in occupied Kashmir. He said that the Indian government had enacted new domicile laws last year after abolishing the symbolic special status of Occupied Kashmir and dividing the Occupied State into two parts and declaring them as Union Territories of India. Steps have been taken which have paved the way for non-Kashmiri Indians to purchase Kashmir land and have also been allowed to purchase land in the disputed area for business and industrial purposes. He said that over the last few months, about two million non-state Hindus have been issued domicile in occupied Kashmir and there is an urgent need to stop the resettlement of non-state people in the disputed state because if they do not do so. In the next two to three years, Muslims will become a minority in occupied Jammu and Kashmir. The President of Azad Kashmir said that the people of Occupied Jammu and Kashmir are currently going through the most critical period in their history where innocent people are being killed, blinded the youth and arrested them in jails and detention camps. It is being shut down and the Indian occupying forces have been given free rein for all kinds of crimes under black laws. Kashmiris have no say in government affairs because their real political leadership is currently locked up in jails. He said that a non-Kashmiri lieutenant governor and chief secretary were following orders from Delhi. President Sardar Masood Khan called on the members of the All-Party Parliamentary Kashmir Group, comprising MPs from various political parties in the British Parliament, to raise awareness about Kashmir and release a comprehensive report on Indian initiatives. Thanking him, he said, “We are especially grateful to the members of the Labor Party who have helped us bring the Kashmir issue under discussion in both the Houses of Parliament.” However, the President said that despite the dire situation in Kashmir, the British Government and the British Foreign Office did nothing more than make harmless statements and ignored the seriousness of the issue by declaring it a bilateral issue between Pakistan and India. Always tried. He urged the British MPs, the Kashmiri and Pakistani community in the UK and civil society to force the British government and the Foreign Office to raise the Kashmir issue in the Security Council. Speaking on the occasion, Afzal Khan, Member of Parliament for the United Kingdom, said that human rights violations in Occupied Jammu and Kashmir are unprecedented in recent history and our position is that the UK has a historic responsibility to resolve the Kashmir issue. ۔ Praising the role of Kashmiris and Pakistanis living in the UK in effectively highlighting the Kashmir issue, Afzal Khan said that the political parties and people of the UK would intensify their efforts in this regard. He said that despite the separation from the European Parliament, the former members of the European Parliament from the United Kingdom would continue to use their relations to raise the issue of Kashmir in the European Parliament through friendly parliamentarians.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *